اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق اردنی سیاسی مصنف عماد الحطبہ نے المیادین کے لیے اپنے مضمون میں انصاراللہ کی اس پیش رفت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی سعودی اتحاد کی کسی بڑی فوجی کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی کو ایک بار پھر واضح کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کے داخلی محاذ پر لڑنے والے سیکڑوں افراد نے تیزی سے ہتھیار ڈالے، جبکہ یمنی قیادت کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد ان افراد کو واپس آنے کا موقع دیا گیا۔ مضمون کے مطابق اس صورتحال نے یمنی عوام کے درمیان داخلی لڑائی کو محدود کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انصاراللہ کی پیش رفت صرف المخا بندرگاہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں بحیرہ احمر کے داخلی راستے اور اس کے سامنے موجود جزائر پر بھی اثر و رسوخ بڑھنے کی بات کی جا رہی ہے۔
مضمون کے مطابق یمن کی یہ کامیابی غزہ اور لبنان کی مزاحمت کی حمایت کے تناظر میں محور مزاحمت کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے، جبکہ مصنف کا دعویٰ ہے کہ ضرورت پڑنے پر انصاراللہ اس فوجی برتری کو ایران کے ساتھ آئندہ کسی ممکنہ مذاکرات یا علاقائی کشیدگی میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔
امریکی منصوبے کے حوالے سے مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد باب المندب سے انصاراللہ اور محور مزاحمت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا، تاہم یمنی پیش رفت نے اس حکمت عملی کو ناکام بنا دیا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ یمن میں براہ راست جنگ میں شامل ہونا امریکا کے لیے سیاسی طور پر بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصنف نے موجودہ صورتحال کو ٹرمپ کے لیے ایک مشکل انتخاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں انصاراللہ کی حالیہ پیش رفت کے باعث محور مزاحمت کا سیاسی اثر و رسوخ مزید بڑھ رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ